14 اکتوبر 2026 - 16:02
سی این ان: عربستان میان جنگ و مذاکرے کی دوراہے پر، یمن کی مسلح افواج سے ٹکراؤ بھاری پڑ سکتا ہے

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب کے بھاری فوجی اخراجات اور جدید دفاعی نظام بھی اس کے اہم بنیادی ڈھانچے کی حفاظت یقینی نہیں بنا سکے۔ یمن کی مسلح افواج کے میزائلوں اور ڈرون حملوں نے سعودی فضائی دفاعی نظام کی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی ایک رپورٹ میں سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام کی ان کمزوریوں کا جائزہ لیا ہے جو یمن کی مسلح افواج کے میزائلوں اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنے میں سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ بھاری فوجی اخراجات اور جدید دفاعی نظام رکھنے کے باوجود سعودی عرب اپنے اہم اور تزویراتی بنیادی ڈھانچے کی حفاظت یقینی بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب ہر سال دفاعی امور پر دسیوں ارب ڈالر خرچ کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود ہوائی اڈوں، تیل صاف کرنے کے کارخانوں اور تیل کی پائپ لائنوں سمیت اہم تنصیبات کو یمن کی مسلح افواج کے میزائلوں اور ڈرون حملوں سے محفوظ رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

امریکہ اور یورپ سے جدید ترین ہتھیار حاصل کرنے اور کئی تہوں پر مشتمل فضائی دفاعی نظام رکھنے کے باوجود سعودی عرب نے گزشتہ ہفتے اپنے دارالحکومت ریاض کو خدمات فراہم کرنے والے مرکزی ہوائی اڈے پر تباہ کن حملوں کا سامنا کیا۔

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، سعودی عرب نے گزشتہ سال دفاعی امور پر 83 ارب ڈالر خرچ کیے، جس کے بعد وہ دنیا میں سب سے زیادہ فوجی اخراجات کرنے والے دس ممالک میں شامل رہا۔ سعودی عرب کے اسلحہ جاتی سودوں میں امریکی لڑاکا طیارے، پیٹریاٹ اور تھاڈ فضائی دفاعی نظام کے علاوہ فرانس اور برطانیہ کے جدید ہتھیار بھی شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کو بہت سے اہداف کا دفاع کرنا پڑتا ہے۔ اس کا رقبہ امریکہ کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر ہے اور اسے تین سمتوں سے خطرات کا سامنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، مشرق کی جانب سے رواں سال شدید لڑائی کے دوران ایران نے سعودی عرب میں مختلف اہداف کی طرف تقریباً ایک ہزار میزائل اور ڈرون داغے۔ شمال کی جانب عراق میں ایران کی حمایت یافتہ مسلح تنظیموں نے مشرق سے مغرب تک جانے والی اہم تیل کی پائپ لائن پر حملے کے لیے ڈرون بھیجے۔ یہ پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی حصے کو مغربی حصے سے ملاتی ہے۔ جنوب کی جانب یمن کی مسلح افواج، جنہیں رپورٹ میں ایران کی حمایت یافتہ قرار دیا گیا ہے، یمن کے پہاڑی علاقوں میں خفیہ ٹھکانوں اور متحرک لانچنگ پلیٹ فارموں سے سعودی عرب کی طرف میزائل داغتی ہیں۔

رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ سعودی عرب کا دفاع کرنے کا مطلب صرف ریاض شہر یا کسی ایک تیل صاف کرنے کے کارخانے کی حفاظت کرنا نہیں، بلکہ وسیع علاقے میں پھیلے ہوئے متعدد اہداف کو محفوظ بنانا ہے۔ دفاعی نظاموں کو آنے والے خطرات کی نشاندہی کرنے، یہ فیصلہ کرنے کہ کن میزائلوں اور ڈرونوں کو روکنا ضروری ہے، اور چند ہی لمحوں میں شہریوں کو خبردار کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔

یہ جائزہ سعودی عرب کی اقتصادی پیش رفت کا تجزیہ کرنے والی آزاد ویب سائٹ ’’ویژن 2030 ڈاٹ اے آئی‘‘ کے حوالے سے پیش کیا گیا ہے۔

ایک سعودی ذریعے کے مطابق، حملوں کے خطرے سے دوچار تنصیبات کی بڑی تعداد کے باعث سعودی وزارت دفاع کو موجودہ دفاعی نظاموں کی تعیناتی اور تقسیم کے حوالے سے مشکل فیصلوں کا سامنا ہے۔

یمن کی مسلح افواج کی صلاحیتیں

رپورٹ کے مطابق، یمن کی مسلح افواج نے بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونوں کو بیک وقت استعمال کرنے کا طریقہ سیکھ لیا ہے، تاکہ سعودی عرب کے دفاعی نظام کو الجھایا جا سکے اور اس کی گرفت سے بچ کر اہداف تک پہنچا جا سکے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ طریقہ روس کی حکمت عملی سے مشابہت رکھتا ہے۔ روس نے یوکرین کے خلاف بڑے پیمانے پر حملوں کے دوران متعدد ڈرونوں کے ساتھ کروز اور بیلسٹک میزائلوں کا بیک وقت استعمال کیا ہے۔

گزشتہ سال یمن کی مسلح افواج کا ایک میزائل صیہونی ریاست کے مؤثر سمجھے جانے والے فضائی دفاعی نظام کو عبور کرکے بن گوریون ہوائی اڈے کے قریب گرا تھا۔

اس حملے کے وقت فوجی تجزیہ کار امیر بار شالوم نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ حملہ انتہائی درست تھا۔ ان کے مطابق، دو ہزار کلومیٹر کے فاصلے سے میزائل داغ کر اس قدر درست نشانہ لگانا قابلِ ذکر کامیابی ہے۔

خطرات صرف تیل کی صنعت تک محدود نہیں

سی این این کے مطابق، سعودی عرب نے یمن کی مسلح افواج کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود ملک میں حالات معمول کے مطابق دکھانے کی کوشش کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ریاض کے ہوائی اڈے پر تباہ کن حملوں سے پہلے گزشتہ ہفتے سعودی شہری دفاع کے ادارے نے آنے والے میزائلوں اور ڈرونوں کے بارے میں موبائل فون پر عوامی انتباہات بھیجنا بند کر دیا تھا۔

ریاض کے بعض رہائشیوں کے مطابق، بعد میں یہ انتباہات دوبارہ شروع کر دیے گئے۔ شہر میں مقیم ایک غیر ملکی باشندے نے بتایا کہ اس کے بچے رواں ہفتے گھر سے آن لائن تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

ریاض کے ایک رہائشی نے ہفتے کے روز شکایت کی کہ اس سے پہلے آنے والے میزائلوں کے بارے میں خودکار انتباہات جاری نہیں کیے گئے تھے۔ تاہم، اس نے کہا کہ پیر تک موبائل فون پر انتباہات کا نظام دوبارہ مؤثر انداز میں کام کرنے لگا تھا۔ اس رہائشی نے ہفتے کے اختتام پر ریاض کے ہوائی اڈے پر حملوں کے بارے میں سعودی حکام کی خاموشی پر بھی تنقید کی۔

رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب کو مستقبل میں مشکل فیصلوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سی این این نے لکھا ہے کہ فضائی حملوں میں اضافے کے ذریعے کشیدگی بڑھانے سے سعودی عرب پر مزید میزائل حملوں کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ایسے حملے ولی عہد محمد بن سلمان کے اس منصوبے کو متاثر کر سکتے ہیں جس کے تحت سعودی عرب کو سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور سیاحت کے شعبوں میں عالمی مرکز بنانا مقصود ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطرات صرف تیل کی صنعت تک محدود نہیں، بلکہ ان میں ڈیٹا سینٹرز، پانی کو میٹھا کرنے والے کارخانے اور ہوائی اڈے بھی شامل ہیں۔ یہ تنصیبات سعودی عرب کے ٹیکنالوجی سے متعلق منصوبوں، پانی کی فراہمی اور سیاحتی معیشت کی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، سعودی ولی عہد کی جانب سے منعقد ہونے والی سرمایہ کاری سے متعلق اہم کانفرنس رواں ماہ کے آخر میں ریاض میں ہونے والی ہے۔ یہ کانفرنس عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے سعودی عرب کی صلاحیتیں پیش کرنے کا موقع ہوگی۔ تاہم، اسی ہفتے بڑی کمپنیوں نے ریاض میں ہونے والی عالمی تیل کانفرنس میں شرکت سے گریز کیا ہے۔

یمن کی مسلح افواج کو شکست دینا انتہائی مشکل

رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کی زمینی کارروائی کے ذریعے یمن کی مسلح افواج کو شکست دینا انتہائی مشکل دکھائی دیتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یمن کی مسلح افواج مضبوط مورچوں پر قابض ہیں، جنگ کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں اور پہاڑی علاقوں کے جغرافیے سے پوری طرح واقف ہیں۔ گزشتہ ماہ انہوں نے سعودی اتحاد کی افواج کو بھاری جانی نقصان پہنچایا ہے۔

سی این این نے یہ بھی یاد دلایا کہ امریکہ نے گزشتہ سال یمن کی مسلح افواج کے خلاف سات ہفتوں تک جاری رہنے والی فضائی کارروائی پر ایک ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کیے تھے۔ بالآخر یمن کی جانب سے امریکی بحری جہازوں پر بحیرہ احمر میں حملے نہ کرنے پر اتفاق کیا گیا، تاہم یمنی افواج نے اپنے ٹھکانے برقرار رکھے اور اسی عرصے میں امریکہ کے کئی انتہائی جدید ڈرون مار گرائے۔

رپورٹ کے مطابق، یمن کی مسلح افواج کی تعداد تین لاکھ پچاس ہزار تک ہو سکتی ہے اور وہ اب بھی حملہ آور پوزیشن میں ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار کی پیر کے روز جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، یمن کی مسلح افواج نے تعز شہر کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ تعز یمن کا تیسرا بڑا شہر اور اہم رسدی مرکز ہے، جو سعودی اتحاد کے کنٹرول میں ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha